امانت
شہر کی بھیڑ بھاڑ سے ذرا ہٹ کر ایک بلند و بالا عمارت کھڑی تھی، جس کے شیشوں میں دن کا سورج بھی کسی حسابی ترتیب سے جھلکتا تھا۔ یہاں ایک بڑی کمپنی کا دفتر تھا اور اس کے اندر اکاؤنٹس کا شعبہ گویا اس عمارت کا دل تھا، جہاں ہر دفتر کن اعداد میں سنائی دیتی تھی۔ میرے دوست سلمان کا یہی دفتر تھا۔
وہ اکثر شام کو چائے پر بیٹھ کر دفتر کے قصے سناتا، مگر ایک دن اس کی باتوں میں ایک عجیب سنجیدگی تھی۔ “تمہیں دو آدمیوں کی کہانی سناؤں؟” اس نے کہا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
نعمان
نعمان احمد درمیانی قد، نرم لہجہ، پیشانی پر پاکیزہ ساجدوں کا نشان۔ وہ اکاؤنٹس کے شعبے میں نائب ہیڈ تھا۔ اذان کی آواز سنتے ہی اس کی انگلیاں کیلکولیٹر سے ہٹ جاتیں اور وہ بے لاؤں اٹھ کھڑا ہوتا جیسے کسی نے اسے یاد دلایا ہو کہ اصل حساب کہیں اور ہونا ہے۔ جمعے کے دن وہ سب سے پہلے مسجد پہنچنے والوں میں ہوتا۔ رمضان آتا تو اس کے چہرے پر ایک خاص نور آ جاتا۔ لوگ اس کی مثالیں دیتے اس کا ذکر احترام سے کرتے۔ مگر سلمان نے کہا: “کبھی کبھی اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی نظر آتی تھی جیسے کوئی اندر رہی اور حساب میں الجھا ہوا ہو۔”
فاروق
فاروق حسین اکاؤنٹس کا ہیڈ۔ وہ نہ تو کبھی نماز کے لیے اٹھتا نہ کسی کو اس کا ذکر کرتے سنا۔ مگر اس کی آنکھیں عجیب تھیں، گہری، ٹھہری ہوئی اور ہر چیزے ہر عدد کے پیچھے چھپی کہانی کو پڑھ لیتی ہوں۔ وہ فائل کھولتا تو اعداد اس کے سامنے راز کھول دیتے۔ ایک ایک روپے کے حساب میں وہ یوں رہتا جیسے یہ صرف کمپنی کی نہیں بلکہ اس کی اپنی امانت ہو۔ سلمان نے ایک دن پوچھا تھا: “آپ اتنی باریک بنی سے سب کچھ کیوں دیکھتے ہیں؟” فاروق نے بغیر سر اٹھائے کہا: “امانت میں باریکی نہ رکھی جائے تو خیانت خود راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔”