Blog

logo_no_bg

کامونکی کے ایک سرکاری ہائی اسکول میں دسویں جماعت کا ایک لڑکا پڑھتا تھا، نام اس کا حارث تھا۔ سادہ طبیعت، مگر دل میں اپنے والد کی نصیحتیں جیسے نقش ہو چکی تھیں۔ اس کے والد ہمیشہ کہتے تھے۔

“بیٹا، استاد کے سامنے ادب سے جھک جانا، یہ جھکنا ہی تمہیں اونچا کرے گا۔”

ایک دن دوپہر کے وقت، وہ نیلم سینما کے سامنے والی سڑک پر اپنی سائیکل تیزی سے چلا رہا تھا۔ ہوا کے دوش پر سوار، جوانی کی بے فکری اس کے چہرے پر صاف جھلک رہی تھی۔ اچانک سامنے سے اس کے استاد، جناب خوشی محمد، سائیکل پر آتے دکھائی دیے۔ حارث کے دل میں جیسے گھنٹی بجی۔ باپ کی آواز پھر گونجی۔ اس نے فوراً سائیکل روکی، نیچے اترا اور ایک طرف ادب سے کھڑا ہو گیا۔

استاد قریب آئے، حیرت سے دیکھتے ہوئے بولے:

“بیٹا، سائیکل کی چین اتر گئی ہے کیا؟”

حارث نے نظریں جھکائیں اور دھیمے لہجے میں کہا:

“نہیں سرجی، آپ کے احترام میں اترا ہوں۔”

یہ سن کر استاد کے چہرے پر ایک عجیب سی روشنی پھیل گئی۔ انہوں نے محبت سے اس کا ماتھا چوما اور دل سے دعا دی۔ وہ لمحہ جیسے وقت کے دامن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ شاید وہ دعا ہی تھی جس نے حارث کی زندگی کے راستے آسان کر دیے۔ مشکلات آئیں، مگر وہ کبھی ٹوٹا نہیں۔ جیسے کسی نادیدہ ہاتھ نے ہمیشہ اسے سنبھال رکھا ہو۔

پھر وقت بدل گیا۔

سالوں بعد، ایک دن حارث ایک نجی اسکول کے باہر سے گزرا۔ اندر کینٹین میں اس نے ایک منظر دیکھا جو اس کے دل کو چیر گیا۔ استاد اور شاگرد ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ چائے کے کپ، ہنسی مذاق، اور سگریٹ کا دھواں فضا میں پھیل رہا تھا۔ نہ آنکھوں میں احترام، نہ لہجے میں لحاظ۔

حارث کچھ دیر وہیں کھڑا رہا، جیسے کسی کھوئی ہوئی چیز کو تلاش کر رہا ہو۔ اس کے ذہن میں سوال ابھرا:

“جب استاد اور شاگرد کے درمیان حد ہی مٹ جائے، تو تربیت کہاں سے آئے گی؟”

اسے اپنا ماضی یاد آ گیا۔ وہی سڑک، وہی سائیکل، وہی لمحہ جب اس نے احترام میں سر جھکایا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اصل علم نصاب میں نہیں، بلکہ رویے میں تھا۔ وہ ایک چھوٹا سا عمل، ایک سادہ سا جھکاؤ تھا مگر اسی میں پوری تربیت چھپی تھی۔

اس رات وہ دیر تک سوچتا رہا۔ پھر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس روایت کو ختم نہیں ہونے دے گا۔ اگلے دن اس نے اپنے بیٹے کو پاس بٹھایا اور کہا:

“بیٹا، استاد کا ادب کرنا سیکھ لو۔ یہ ادب ہی تمہیں زندگی میں عزت دے گا۔”

بیٹا خاموشی سے سنتا رہا۔ شاید ایک نئی شروعات ہو رہی تھی۔ کیونکہ معاشرہ استاد کے ادب کے بغیر کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *