جگنو راستہ بھول گئے تھے ۔ یا شاید راستے نے ہی انہیں بھلا دیا تھا ۔ انہیں خود بھی خبر نہ ہوئی کہ کب وہ بھارت کی سرزمین سے اڑتے ہوئے پاکستان کی حدود میں داخل ہو گئے ۔ یہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے معصوم جگنوں کی کہانی ہے، جو رات کی تاریکی میں سمتوں کی پہچان کھو بیٹھے اور اپنے ملک کی سرحد پار کر گئے ۔ رات بھر وہ اپنے ننھے چراغوں کی ٹمٹماہٹ میں مگن رہے تاہم صبح صادق کی پو پھوٹی تو وہ شیشم کے ایک درخت کے پتوں کے پیچھے دبک کر بیٹھ گئے اور نیند کی وادیوں میں اتر گئے ۔
کچھ دیر بعد جب آنکھ کھلی تو منظر بدلا ہوا تھا ۔ انسان وہی تھے، مگر لباس مختلف تھا ۔ نہ سروں پر وہ بھاری پگڑیاں، نہ چہروں پر ویسی گھنی داڑھیاں، جیسی وہ اپنے دیس میں دیکھا کرتے تھے ۔ وہ حیرت میں ڈوبے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، جیسے کسی اجنبی دنیا میں آن نکلے ہوں ۔
ابھی وہ اسی حیرت میں گم تھے کہ قریب کی ٹہنیوں پر بیٹھے چند مقامی جگنو ان کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اجنبیت کی دھند کو بھانپتے ہوئے وہ قریب آئے اور پوچھا:
“خیریت ہے؟ تم لوگ کچھ پریشان معلوم ہوتے ہو ۔”
بھارتی جگنوں نے اپنی داستان سنائی تو پاکستانی جگنو بھی ششدر رہ گئے ۔ انہیں تعجب ہوا کہ چند ہی میلوں کے فاصلے پر انسانوں کے رنگ، روپ اور طور طریقے یوں بدل جاتے ہیں ۔ باتوں باتوں میں طے ہوا کہ اگلی رات سب مل کر اس سمت کا سفر کریں گے، جہاں سے یہ مہمان آئے تھے ۔ چنانچہ رات ڈھلی، اور جگنوں کا قافلہ ہوا کے دوش پر سوار ہو کر بھارت جا پہنچا ۔
صبح ہوئی تو اس بار حیرانی پاکستانی جگنوں کے حصے میں آئی ۔ وہ ابھی پتوں کے سائے میں سمٹے ہوئے تھے کہ ایک چڑیا نے پوچھا:
“کیا باتیں ہو رہی ہیں؟”
جگنوں نے مسکرا کر جواب دیا:
“ہم کل ذرا دور نکل گئے تھے ۔ وہاں کے لوگ کچھ اور ہی طرح کے ہیں ۔ یہ ہمارے دوست وہیں سے ہمارے ساتھ آئے ہیں ۔”
چڑیا کی آنکھوں میں بھی تجسس جاگ اٹھا ۔ اس نے کہا:
“پھر تو ہمیں بھی دیکھنا چاہیے، کل ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے ۔”
یوں یہ سلسلہ بڑھتا گیا ۔ چڑیا نے اپنے ساتھیوں کو بتایا، انہوں نے آگے سنایا، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر پرندوں کی دنیا میں پھیل گئی کہ ایک ہی زمین پر بسنے والے انسان چند قدم کے فاصلے پر رہ کر بھی ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں ۔ پھر کیا تھا، پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ کبھی پاکستان کی فضاؤں میں اترتے، تو کبھی بھارت کی سمت پرواز کرتے ۔ شکر گڑھ کے پرندے ہوشیار پور کے کھیتوں میں دانہ چگنے جا نکلتے، اور فیروز پور کے پرندے قصور کی زمین پر اتر آتے ۔ واہگہ کے کوے بی آر بی نہر کو پار کر کے امرتسر کے نالوں میں رزق تلاش کرتے، جبکہ سیالکوٹ کی مرغابیاں نالہ ایک عبور کر کے ادھم پور جا پہنچتیں ۔ کبھی راجستھان کے طوطے ریگستانوں کو چیرتے ہوئے بہاولپور کے باغات میں امرودوں کی ضیافت اڑاتے ۔
مگر نیچے زمین پر ایک اور ہی منظر ہے ۔ نیچے دونوں جانب کے انسانوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کیلئے خاردار باڑ لگائی گئی ہے ۔ دونوں اطراف کے فوجی بندوقیں تھامے کھڑے ہیں کہ خبردار کوئی ادھر سے ادھر نہ جانے پائے ۔ ایک دوسرے کی جانب جانے کیلئے نیو دہلی اور اسلام آباد میں موجود سفارتخانوں کے باہر ویزے لینے کیلئے انسانوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔ جس کو چاہیں جانے کی اجازت مرحمت فرما دیں، نہ چاہیں تو ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر بھی جائیں تو داخلے کا پرمٹ یعنی ویزہ نہ ملے ۔
عداوت کا یہ عالم ہے کہ دونوں اطراف کے بندوق بردار ایک دوسرے کو گولی مارنے سے بھی احتراز نہیں کرتے ۔ ایک دوسرے کو مارنے کیلئے انہوں نے بڑے بڑے بم بنا رکھے ہیں ۔ کچھ بم تو ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ چل گئے تو دونوں ممالک صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے ۔ شیر خوار بچے مر جائیں گے، دودھ پلاتی مائیں جھلس جائیں گی اور کئی دہائیوں تک اس دھرتی میں بچے معذور پیدا ہوں گے ۔
سرحد کی دونوں اطراف والے لڑ لڑ کر مرے جا رہے ہیں ۔ دوسری جانب زمین سے تھوڑا اوپر جگنو مزے لے رہے ہیں، چڑیاں چہچہا رہی ہیں ، کوئل نغمے گنگنا رہی ہے ، طوطے اٹکھیلیاں کر رہے ہیں اور کوے کھیتوں میں ہل چلاتے ٹریکٹر کے پیچھے پیچھے بھاگ کر اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں ۔ یہ جانور جب کبھی فرصت میں ایک ساتھ بیٹھتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں:
“انسان نے انسان کو دور رکھنے اور مارنے کے کتنے بندوبست کر رکھے ہیں، یارو شکر ہے ہم انسان نہیں ہیں ۔”
(نوٹ: اگر آپ کو پہلے والی دیگر کہانیوں میں سے کسی کا متن دوبارہ چاہیے تو آپ اس کا نام بتا سکتے ہیں)