شام ڈھل رہی تھی ۔ پرانی بستی کی تنگ گلیوں میں اذان کی آواز گونج رہی تھی، مگر عجیب بات یہ تھی کہ ایک ہی وقت میں تین مختلف مسجدوں سے تین الگ لہجے سنائی دے رہے تھے ۔ ایک گلی کے کونے پر سفید گنبد والی مسجد تھی، دوسری کے دروازے پر سبز جھنڈے لہرا رہے تھے، اور تیسری نسبتاً سادہ، بغیر کسی خاص شناخت کے کھڑی تھی، جیسے خاموشی سے سب کو دیکھ رہی ہو ۔
علی، جو ابھی ابھی شہر آیا تھا، اس نے ایک دکاندار سے پوچھا:
“بھائی، نماز کہاں پڑھوں؟”
دکاندار نے مسکرا کر کہا:
“یہاں سوال یہ نہیں کہ نماز کہاں پڑھنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ تم کس کے پیچھے پڑھ سکتے ہو۔”
علی کو یہ بات کچھ سمجھ نہ آئی ۔ وہ پہلی مسجد کے دروازے تک گیا ۔ دروازے پر ایک بورڈ لگا تھا: “یہاں فلاں فرقہ کے لوگوں کا داخلہ سختی سے منع ہے” ۔ وہ رکا، پلٹا، اور دوسری مسجد کی طرف بڑھ گیا ۔ وہاں بھی ایک ایسا ہی جملہ لکھا تھا، مگر اس کا انداز مختلف ہونے کے باوجود معنی وہی تھے؛ انکار، دوری اور حد بندی ۔
وہ تیسری مسجد کے سامنے آ کر ٹھہر گیا ۔ یہاں کوئی بورڈ نہیں تھا ۔ دروازہ کھلا تھا، جیسے کسی نے دانستہ سب کے لیے چھوڑ دیا ہو ۔ اندر ایک بوڑھا آدمی صفیں درست کر رہا تھا ۔ علی نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“باباجی، یہاں کس مسلک کے لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں؟”
بوڑھے نے مسکرا کر جواب دیا:
“بیٹا، یہاں ہر مسلمان نماز پڑھ سکتا ہے۔”
علی نے پہلی بار سکون کا سانس لیا اور صف میں کھڑا ہو گیا ۔ کچھ ہی دیر میں مختلف چہروں والے لوگ آ کر صفوں میں شامل ہونے لگے ۔ کسی کے سر پر سفید ٹوپی تھی، کسی کے پاس سبز عمامہ، کوئی سادہ لباس میں تھا ۔ کسی کی شلوار ٹخنوں سے اوپر تھی تو کسی کی نیچے، جب تکبیر ہوئی تو سب کے ہاتھ مختلف انداز میں بندھے ہوئے تھے مگر سب کی پیشانیاں ایک ہی زمین پر جھکیں ۔
نماز کے بعد علی نے بوڑھے سے پوچھا:
“باباجی، باقی مسجدوں میں یہ سب کیوں نہیں ہو سکتا؟”
بوڑھے نے آہ بھری اور کہا:
“بیٹا، مسئلہ نماز کا نہیں، دلوں کا ہے ۔ جب دلوں میں دیواریں کھڑی ہو جائیں تو مسجدیں بھی الگ الگ بن جاتی ہیں ۔”
علی نے معصومیت سے پوچھا:
“تو پھر حل کیا ہے؟”
بوڑھا مسکرایا، اب اس کی آنکھوں میں نمی تھی:
“حل یہ ہے کہ ہم یہ یاد رکھیں کہ ہم سب ایک ہی رب کے بندے ہیں، ایک ہی نبی کے امتی ہیں ۔ فرقے انسان بناتے ہیں، مگر سجدہ سب کا ایک ہی ہوتا ہے ۔”
علی نے باہر نکل کر دوبارہ ان تین مسجدوں کو دیکھا ۔ اس نے دیکھا کہ دیواریں ایک ہی جیسی ہیں اور ہر عمارت کو مسجد ہی قرار دیا گیا ہے ۔ تاہم مسجد کا اصل مفہوم وہی تھا جو علی کو اس بوڑھے نے سمجھا دیا تھا ۔