Blog

کہتے ہیں مرنے کے بعد سب حساب کتاب میں لگ جاتے ہیں ۔ مگر لاہور کے چند دوست ایسے بھی تھے جنہوں نے اگلے جہان جا کر بھی حساب کتاب نہیں، انتخاب شروع کر دیا ۔ اوپر جا کر سب سے پہلے جس نے آواز لگائی وہ ملک حفیظ تھے ۔

“بھائیو! یہاں بھی کوئی نظام ہونا چاہیے۔ جمہوریت کے بغیر تو جنت بھی ادھوری لگتی ہے ۔”

کسی نے دبے لہجے میں کہا:

“ملک صاحب، یہاں نہ الیکشن کمیشن ہے نہ پولنگ اسٹیشن ۔”

ملک حفیظ مسکرائے:

“تو پھر بنا لیتے ہیں، ہمیں لاہور کے کاسمو میں بھی کب تیار ملا تھا ؟”

یوں آسمانوں میں کاسموپولیٹن کلب برائے مرحومین کی بنیاد پڑی ۔

جنرل سیکرٹری: خواجہ ریاض

انتخاب ہوا یا متفقہ فیصلہ کسی کو یاد نہیں، مگر جنرل سیکرٹری وہی بنے خواجہ ریاض ۔ وہاں بھی سب کو گلے لگاتے ۔ فرشتے حیران کہ یہ بندہ جنت میں بھی سب کو “آئیں جی بیٹھیں جی” کہہ کر بٹھا رہا ہے ۔ کہتے ہیں ایک دن حوروں سے عرض کیا:

“اگر اجازت ہو تو آج دوستوں کیلئے گھر سے کھانا منگوالوں؟ عادت سی ہے ۔”

اپوزیشن لیڈر: نعیم بٹ

جنت میں بھی دھڑا بندی شروع ۔ نعیم بٹ نے اعلان کیا:

“ہم اصولی اپوزیشن کریں گے۔ ملک صاحب کی ہر قرارداد کو چیلنج کیا جائے گا ۔”

ملک حفیظ ہنس کر بولے:

“اوئے نعیم! یہاں بھی ؟”

نعیم بٹ نے کہا:

“بھائی سیاست خون میں ہے، کفن کے ساتھ ختم نہیں ہوتی ۔”

میڈیکل کیمپ: ڈاکٹر منیر حسین

ادھر ایک گوشے میں فری کارڈیک چیک اپ کیمپ لگا ہوا ہے ۔ انچارج ڈاکٹر منیر حسین ۔ فرشتے بھی کبھی کبھی بلڈ پریشر چک کروا جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب حسب عادت فیس نہیں لیتے ۔ کہتے ہیں:

“کاسمو کے ممبر ہو یا جنت کے، علاج سب کا مفت ہے ۔”

کوئی کہتا ہے جنت میں بیماری نہیں ہوتی، مگر ڈاکٹر منیر کے ہوتے ہوئے سب کو سکون رہتا ہے کہ اگر کچھ ہوا بھی تو اپنا بندہ موجود ہے ۔

شاعر: ریاض الرحمن ساگر

اور پھر محفل کے آخر میں مائیک سنبھالتے ہیں ریاض الرحمن ساگر ۔ ایک دن کسی نے فرمائش کی:

“ساگر صاحب، وہی سنادیں ۔”

انہوں نے مسکرا کر پڑھا:

“میں تینوں سمجھاواں کی

اور جب راحت فتح علی خان کی آواز میں گایا جانے والا اپنا لکھا ہوا مصرع سناتے ہیں تو سب ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں ۔ ساگر صاحب کہتے ہیں:

“یار دنیا میں گیت فلموں کیلئے لکھے، یہاں دلوں کیلئے لکھوں گا ۔”

نفاست کی علامت: ملک محمد حسین

ایک دن دروازہ کھلا ۔ سفید، استری شدہ لباس، چمکتے جوتے، ترتیب سے سنورے بال ۔ جناب تشریف لائے ہیں ملک محمد حسین، سابق ڈی جی پی آر لاہور حکومت! جنت میں سب کو بہترین لباس ملتا ہے، مگر ملک صاحب نے آتے ہی پوچھا:

“یہ جوڑا کس درزی نے سیا ہے؟ کٹنگ کلاسیکل ہونی چاہیے اور جوتوں پر تھوڑی اور چمک ہو سکتی ہے ۔”

ڈاکٹر منیر ہنس دیے:

“ملک صاحب، یہاں دل دیکھے جاتے ہیں!”

وہ مسکرا کر بولے:

“ڈاکٹر صاحب، دل اپنی جگہ مگر جوتا بھی شخصیت کی شہادت ہوتا ہے!”

محفل میں وقار کی ایک لکیر سی کھینچ گئی ۔

اقبال شمسی: شام کے مستقل ممبر

سر شام دروازہ کھلتا ہے ۔ متین چہرہ، سنجیدہ انداز؛ اقبال شمسی، فوج سے ریٹائرڈ ۔ عمر رسیدہ ضرور تھے، مگر محفل کے ایسے عادی کہ زمین پر بھی شام ہوتے ہی کلب آ جاتے تھے ۔ یہاں بھی وقت کی پابندی برقرار ۔ وہ بیٹھتے ہیں، خاموشی سے محفل کا جائزہ لیتے ہیں، اور پھر خالدی کے گیت پر ہلکی سی تال دیتے ہیں ۔ کسی نے پوچھا:

“شمسی صاحب، آرام نہیں کرتے ؟”

جواب آیا:

“سپاہی ہوں، ڈیوٹی چھوڑنا عادت نہیں ۔”

شہزاد گڈا: بارہ انڈوں والا فلسفی

ایک دن آسمانی دستر خوان پر بیٹھے بارہ انڈے مانگ لئے ۔ فرشتے نے پوچھا:

“ایسا کیوں؟ یہاں کیلوریز کا کوئی مسئلہ نہیں، مگر عادت ؟”

کہنے لگے:

“امریکہ سے آیا ہوں، عادتیں بھی امپورٹڈ ہیں ۔”

کبھی کسی کی نقل اتارتے، کبھی خود غصہ کر بیٹھتے ۔ اور جب سامنے والا بھی ذرا تیز ہو جائے تو آہستہ سے سرک کر کہتے:

“یار مذاق تھا تم تو سنجیدہ ہو گئے ۔”

شکیل مگھو: مسکراہٹوں کا رقاص

ایک دن دروازہ کھلا ۔ ہلکی سی تھاپ اور ساتھ ہی روایتی سا رقص ۔ لو جی محفل شروع سمجھو، شکیل مگھو تشریف لے آئے ۔ زمین پر بھی یہی انداز تھا ۔ کاسمو پولیٹن کلب کے نیچے والے کمرے میں داخل ہوتے ہی دو قدم ناچتے، اور کمرہ کھل اٹھتا ۔ ہر وقت مسکراتے، ہر دوست کے کام آنے والے ۔ کوئی پریشان ہو تو سب سے پہلے شکیل حاضر ۔ کسی نے پوچھا:

“یہاں بھی ڈانس ؟”

بولے:

“یار جہاں دوست ہوں، وہاں خوشی فرض ہے!”

اور یوں آسمانی کاسمو کلب میں ہنسی کا شعبہ مستقل طور پر شکیل مگھو کے سپرد ہو گیا ۔

گلریز بٹ: خدمت کی خاموش روشنی

کلب کے ایک کونے میں میز بچھ رہی ہے، کرسیاں ترتیب پا رہی ہیں، چائے کے پیالے قطار میں رکھے جا رہے ہیں ۔ یہ سب کر رہا ہے گلریز بٹ ۔ وہاں بھی وہی انداز:

“یار تم کھیل شروع کرو، میں سب سنبھال لیتا ہوں ۔”

کوئی کہتا:

“گلریز، اب تو جنت ہے، یہاں سب خود مل جاتا ہے!”

وہ مسکرا کر جواب دیتا:

“خدمت نہ کروں تو سکون نہیں ملتا ۔”

عاجزی اس کے چہرے سے جھلکتی ہے، انکساری اس کی پہچان ہے ۔

شعیب بٹر: پتوں کا شہنشاہ

پنجاب کے محکمہ اریگیشن کے افسر رہے، مگر اصل مہارت پتے بانٹنے میں تھی ۔ شعیب بٹر نے آتے ہی اعلان کیا:

“آج تاش ہو جائے؟ دیکھتے ہیں اوپر قسمت کس کی ہے!”

ملک حفیظ ہنسے:

“نیچے بھی تم ہی جیتے تھے!”

شعیب بٹر نے آنکھ جھپکی:

“قسمت کا محکمہ بھی شاید میرے سپرد تھا ۔”

اور واقعی، اکثر وہی جیت جاتے ۔

خالدی اور نور جہاں کی محفل

ہر جمعرات کو محفل موسیقی ہوتی ہے ۔ اسٹیج پر آتے ہیں خالدی ۔ پہلا گیت ہمیشہ مدھم آواز میں: “چاندنی راتیں” ۔ کہتے ہیں جب وہ نور جہاں کے گیت چھیڑتے ہیں تو فضا میں ایک عجیب سی نمی پھیل جاتی ہے، ستارے بھی جھک کر سنتے ہیں ۔ ملک حفیظ تال دیتے ہیں، نعیم بٹ فرمائش کرتے ہیں، خواجہ ریاض سب کو چائے پیش کرتے ہیں ۔

میاں زاہد: محبت بانٹنے والا

اور پھر ایک اور دروازہ کھلا ۔ ہاتھ میں تحائف، چہرے پر نفاست، میاں زاہد تشریف لاتے ہیں ۔

“کچھ دوستوں کیلئے بھارتی تحائف لایا ہوں ۔”

سب ہنس پڑتے:

“میاں صاحب، یہاں کسٹم نہیں لگتا!”

وہ ہر ملنے والے کے گال پر عربوں کی طرح بوسہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں:

“محبت بانٹنے سے بڑھتی ہے ۔”

محفل میں ایک عجیب سی نرمی گھل جاتی ہے ۔

دوستوں کی محفل کا منظر

ایک طرف سیاست جاری ہے، ایک طرف تاش کی بازی، ایک طرف گیت، ایک طرف شاعری ۔ ایک طرف نفاست، ایک طرف خدمت، ایک طرف وقار، ایک طرف محبت ۔

زمین پر لوگ کہتے ہیں وہ سب چلے گئے، مگر شاید سچ یہ ہے وہ کہیں گئے نہیں ۔ بس لاہور کے کاسمو سے نکل کر آسمانوں کے کاسمو میں منتقل ہو گئے ہیں ۔ اور وہاں بھی محفل جاری ہے، قہقہے جاری ہیں، دوستی جاری ہے ۔

بس فرق اتنا ہے کہ کچھ کرسیاں یہاں خالی ہوئی ہیں اور کچھ وہاں بھر گئی ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *