وقت ایک ہی جیسا ہوتا ہے مگر ہر کسی پر گزرتا الگ الگ ہے۔ گھڑی کی سوئیاں سب کے لیے ایک ہی رفتار سے چلتی ہیں، مگر اس کا گزرنا ہر دل پر الگ الگ محسوس ہوتا ہے۔ کسی کے لیے ایک رات پلک جھپکتے گزر جاتی ہے اور کسی کے لیے وہی رات صدیوں کی طرح طویل ہو جاتی ہے۔
کئی برسوں کی محبت کے بعد فرہاد کی شادی ثریا سے ہوگئی تھی۔ دونوں خود کو دنیا کے خوش نصیب ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ دلوں کی مراد پوری ہو جائے تو انسان کو لگتا ہے کہ کائنات اس کے لیے مہربان ہو گئی ہے۔
چاند کی چودھویں رات تھی۔ پہاڑ کے دامن میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، دور کہیں جھینگر بول رہے تھے اور خاموشی میں ایک عجیب سا سکون گھلا ہوا تھا۔ فرہاد اور ثریا ایک چٹان پر بیٹھے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آسمان کو دیکھ رہے تھے۔ چاندنی ان کے چہروں پر بکھری ہوئی تھی۔
فرہاد نے آہستہ سے کہا:
“کاش آج کی رات کی کبھی صبح نہ ہو۔”
ثریا مسکرادی۔ اس نے بھی دل ہی دل میں یہی دعا کی کہ وقت یہیں ٹھہر جائے۔ یہ لمحہ، یہ چاندنی، یہ خاموشی سب کچھ ہمیشہ کے لیے اسی طرح قائم رہے۔
لیکن اسی رات، اسی وقت، چند میل دور ایک گاؤں کے کچے گھر میں ایک اور کہانی چل رہی تھی۔ مجید درد سے کراہ رہا تھا۔ گاؤں کے حکیم صاحب نے اپنے طور پر بہت سی دوائیں دے کر دیکھ لی تھیں، مگر آرام نہ آیا۔ آخر انہوں نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا:
“اسے شہر کے ہسپتال لے جانا پڑے گا۔”
مسئلہ یہ تھا کہ شہر جانے والی گاڑی صرف صبح آتی تھی۔ رات گزارے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔ مجید کی ماں نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا ہوا تھا۔ وہ اس کے ماتھے کو سہلاتے ہوئے کہہ رہی تھی:
“میرا پتر بس سویر ہون والی اے۔ میں اپنے پتر نوں پہلی گڈی تے شہر لے جاواں گی۔”
اس کی بہن مجید کے پاؤں دبا رہی تھی اور اسے تسلی دے رہی تھی:
“بیا مجید صبح ہونے میں بس تھوڑا سا ٹائم رہ گیا ہے۔”
مگر درد سے تڑپتے ہوئے مجید نے بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں اور دھیمی آواز میں کہا:
“آج تو پتہ نہیں رات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔”
ایک ہی رات تھی۔ پہاڑ کے دامن میں بیٹھے فرہاد اور ثریا اس شب کے طویل ہونے کی دعائیں کر رہے تھے اور گاؤں کے اس کچے مکان میں مجید کے گھر والے جلدی صبح ہونے کی التجائیں کر رہے تھے۔
وقت ایک ہی جیسا تھا، مگر ہر دل پر اس کا گزرنا الگ تھا۔
مکرر عرض ہے کہ وقت سب کیلئے ایک جیسا ہی ہوتا ہے مگر وہ گزرتا الگ الگ ہے۔