Blog

رمضان آ گیا تھا ۔ گاؤں کی مسجد سے سحری کی منادی ہوئی فضا میں روحانیت تھی، اور ایک ان کہے سوال کی گونج بھی ۔

گاؤں کے بیچوں بیچ، پکی حویلیوں میں سحری کی رونق تھی ۔ لمبے دستر خوان، چمکتے برتن، مٹن کا گاڑھا شوربہ، دہی، چاول، گھی، تازہ مکھن ۔ نمبر دار جی کے گھر خادموں کو تاکید تھی، نمک پورا ہو، شوربہ بھرپور ہو، مہمان معزز ہیں ۔

اسی گاؤں کے ایک کونے میں بھولا کمہار اور اس کے بچے اندھیرے کمرے میں سحری کر رہے تھے ۔ دو سوکھی روٹیاں، پتلا سا سالن ۔ بچہ دھیرے سے پوچھتا ہے:

“ابا کل کچھ اور ہوگا؟”

اور جواب میں خاموشی روزہ رکھ لیتی ہے ۔

مشرق کی طرف، چھپڑ کے کنارے کچے گھر میں محمد نذیر موچی رہتا ہے ۔ چولہا ٹھنڈا تھا ۔ ماں نے پانی میں نمک اور مرچ گھولی، ایک ایک روٹی بچوں کے ہاتھ میں دی ۔

“بیٹا، نیت مضبوط رکھو، اللہ دیکھ رہا ہے۔”

بچے پانی کے ساتھ روٹی کھا کر روزے کی نیت باندھ لیتے ہیں ۔

قبرستان کے پاس بوسیدہ جھونپڑی میں عثمان مستری کی بیوی افطاری پر سالن ناپ تول کر ڈالتی ہے، بچوں سے کہتی ہے:

“کم لگاؤ، سحری بھی کرنی ہے۔”

اور اسی شام، گاؤں کے ایک چودھری کے ہاں افطار ڈنر تھا ۔ سالم بکرے، روسٹ مرغ، بٹیروں کا سالن، مٹن کڑاہی، مچھلی، نعمتوں سے بوجھل دستر خوان ۔ مہمان خوب کھا پی کر رخصت ہو گئے ۔ برتن بھرے رہے، دل نہیں ۔

رات گہری ہوگئی، مگر سوال جاگتا رہا ۔

ہم جو افطار اور سحری اپنوں جیسے امیروں کو کروا کر دنیا میں بڑے بننا چاہتے ہیں، کیا کسی بھوکے بچے کی سحری بہتر بنا کر اللہ کے نزدیک بھی بڑے ہو سکتے ہیں؟

رمضان آ گیا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے ۔

دنیا یا آخرت؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *